17 اگست، 2013

طویل شب کا سحر سے سلام ہو جائے

~غلام مجتبٰی ملک~

طویل شب کا سحر سے سلام ہو جائے
تو کیوں نہ آج خدا سے کلام ہو جائے

آبلہ پائی کی زنجیر دینے والے سے
صورتِ موجِ بلا انتقام ہو جائے

نہ چھیڑ دیکھ تو قصہ میری بربادی کا
یہ نہ ہو حادثہ یہ تیرے نام ہو جائے

فضا میں پھیلی ہوئی سوگوار تنہائی
کہیں سے موت کا تازہ پیام ہو جائے

میں خود پہ طنز کے نشتر چلاتا رہتا ہوں
کہ دل کی حسرتوں کا قتلِ عام ہو جائے

خیالِ یار کی حد تک رسائی مل جائے
تو میرے عشق کو حاصل دوام ہو جائے

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll