31 جولائی، 2013

رودادِ محفل۔۔۔ 28 جولائی 2013

28 جولائی، 2013 ء          اتوار        18 رمضان المبارک
نہ جانے کیوں آج غوری صاحب نے موبائل پر رائتے کا مطالبہ کر دیا۔ یعنی کہ اگر چہ ہم جانتے ہیں کہ رائتہ بھی بلا شبہ انسانی خوراک ہے ، مگر یہ بوتل اور رائتے کا کچھ میل نہیں بنتا۔خیر، ہماری نیت درست بھی ہوتی تو بھی نارسائی اپنی ہی تقدیر تھی: ہجویری ہوٹل بند تھا۔ مزید برآں، ہم تین ( روﺅف ‘ وقاص اور میں ) اپنے کل اثاثے ملا کر بھی خالی مینائے مئے دورِ جدید نہیں لاسکتے تھے ‘ سو یہ رائتہ تو کافی دور کا ڈھول تھا۔ سکول کی چھت پر پہنچے تو یکلخت دل اچھل کر حلق میںآگیا۔ کرسیوں کے درمیان پڑے چوڑے سے بنچ پر ایک ڈونگے میں بریانی رکھی تھی ، جس میں کثرت سے شامی ٹکیاں بھی موجود تھی۔ وہ بھی ذائقے میں ایسی کہ میں پل صراط پر بھی نہ مانوں کہ جلالپور پیر والہ کی کسی ریڑھی پر ایسی شامیاں بھی ملتی ہیں۔تما م لوازمات و غیر لوازمات پر ہاتھ صاف کر چکے تو پتہ چلا کہ یہ جناب ِ غوری صاحب کے اپنے ہاتھوں سے بنی نادر اشیا ئے خورد تھیں۔
بات کا آغاز ہی واقعات(یا بقول علی۔۔ واہ یات) سے ہوا۔ غوری صاحب نے آج کسی کو نہ بخشا ۔ ایک بار وقاص سے مخاطب ہوئے کہ جناب آپ کی قوم کیا ہے۔ وقاص نے بتایا کہ گھلو ہے ۔ اس کے فوراََ بعد غوری صاحب یوں گویا ہوئے ۔” ایک تھا گھلو۔۔“ یہ سننا تھا کہ وقاص اپنی نشست سے اٹھا اور محفل سے دور ‘ افق کے اس پار جا کے بیٹھ گیا۔اس کی منت سماجت کر کے بلایا کہ چلیں ایک گھلو نہیں بلکہ ایک غوری تھا۔ اس معاہدے پر (کہ جو وہ ایک تھا وہ غوری تھا) وقاص صاحب محفل میں آ کر بیٹھے۔ غوری صاحب اپنے واقعے کی طرف مڑے ۔” ایک غوری تھا، ایک بار وہ تانگے پر جا رہا تھا کہ کہیں سے اسکا ایک گھلو دوست مل گیا۔“ خیر ملا جلا کر غوری صاحب نے وقاص کو تو اتنا نہ دھویا۔ البتہ رﺅف کے دل میں ایک تجسس ڈال دیاکہ غوری صاحب کو ملنے والے بابے کی گٹھڑی میں کیا تھا؟؟ (اس کا جواب جاننے کے لیے رابطہ کیجیے جناب غوری صاحب سے)
بہر حال، انتخاب کی بات چلی۔رﺅف نے آج بڑا ہی جاندار انتخاب پیش کیا ۔ ایسا جاندار کہ ہر ہر شعر پر واہ واہ بلند ہوتی رہی۔

دل ہوا جب سے شرمسار ِ شکست
بن گئے دوست پرسا، دارِ شکست
ہر کوئی سرنگوں ہے لشکر میں 
ہر کسی کو ہے انتظارِ شکست
کہہ رہی ہے تھکن دلیروں کی 
اب کے چمکے گا کاروبارِ شکست
آئینے کی فضا تو اجلی تھی
مرے چہرے پہ ہے غبار شکست
کامرانی کا گر سکھا مجھ کو
یا عطا کر مجھے وقار ِ شکست
موت فتح وظفر کی منزل
زندگانی ہے رہگزارِ شکست
اسکے چہرے پہ فتح رقصاں تھی
اس کے شانے تھے زیرِ بارِ شکست
غزل بلا شبہ منفرد تخیل پر مبنی تھی۔ بے حد لطف دے گئی۔ رﺅف کی ذاتی لغت استعمال کریں تو بے شمار ”تحسانے“ امڈ پڑے۔
اس کے بعد وقاص مغیرہ اقبال نے انتخاب کے لیے شاعر کا اعلان کیا،”محسن نقوی“ ۔۔۔ اسکے ساتھ ہی دو ایک دردناک صدائیں بلند ہوئیں”ہائے“۔
وقاص نے محسن نقوی کی مشہور زمانہ اور آزاد نظم ‘ چلو چھوڑو‘ پیش کی۔

محبت جھوٹ ہے
عہدٍ وفا شغل ہے بے کار لوگوں کا
طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
چلو چھوڑو
کب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانسوں کی ضربوں پہ
چاہت کے بنا رکھ کر سفر کرتا رہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تم بھی موسم کے ساتھ پیرہن کے رنگ بدلو گے
چلو چھوڑو
میرا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے
تم اپنے خل و خلود کو آئینے میں پھر بکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے ایک نیا موسم اتار دو
میرے بکھرے خوابوں کو مرنے دو
پھر نیا مکتوب لکھو
پھر نئے موسم، نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں کے کچے رابطے توڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹی ہے
عہدٍ وفا شغل ہے بیکار لوگوں کا
انتخاب بلا شبہ عمدہ تھا۔ بہت سراہا گیا۔ اس کے بعد مسکین راقم کی جانب سے ” خالد بن حامد“ کی درج ذیل نظم پیش کی گئی۔

ابھی زنجیر پا ہیں آرزوئیں‘ حسرتیں لاکھوں
ابھی رستے کا پتھر ہیں طلب کی کلفتیں لاکھوں
ابھی ہونٹوں پہ سیرابی کی شادابی نہیں آئی
ابھی آنکھوں میں سچے دکھ کی بے خوابی نہیں آئی
ابھی لہجے میں دلسوزی کا ویرانہ نہیں آیا
ابھی تک درد کی صورت کا افسانہ نہیں آیا
ابھی تک ہیں اسی کے خواب میں ڈوبی ہوئی آنکھیں
ابھی تک ہیں شب ِ غرقاب میں ڈوبی ہوئی آنکھیں
ابھی تک مہر ِ عالم تاب کی ہیں منتظر آنکھیں 
ابھی تک ہیں اسی کی روشنی پر منحصر آنکھیں
ابھی تک رنگِ راحت سے تہی ہیں سینکڑوں سپنے
ابھی تک قرب ِ وحدت سے تہی ہیں سینکڑوں سپنے
ابھی تسکین والفت کے لیے اک لمحہِ راحت 
مری جاں ! سینکڑوں صدیوں کی دوری پر ہے یہ جنت
ابھی زنجیر پا ہوں میں ‘ ابھی زنجیر پا ہو تم
مجھے دل سے یقیں ہے مجھ سے بے حد باوفا ہو تم 
مگر اس تشنہ خواہش کو زیرِ اب مت دیکھو 
خلش تازہ کوئی ڈھونڈو‘ ابھی یہ خواب مت دیکھو
ابھی یہ خواب مت دیکھو‘ ابھی یہ خواب مت دیکھو
انتخاب پر اچھی داد ملی۔اب علی عمار یاسر کی جانب منہ کیا ۔ وہاں سے صدائے افتخار عارف بلند ہوئی۔

انہیں میں جیتے انہیں بستیوں میں مر رہتے
یہ چاہتے تھے مگر کس کے نام پر رہتے

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون تھے کہ اپنے گھر رہتے

پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنے
پر اپنے ہم شجروں سے تو باخبر رہتے

بس ایک خاک کا احسان ہے کہ خیر سے ہیں
وگرنہ صورت خاشاک در بدر رہتے

میرے کریم ! جو تیری رضا، مگر اس بار
برس گزر گئے شاخوں کو بے ثمر رہتے
اس غزل کے ہر شعر پر داد نہ ملنا ممکن ہی نہ تھا۔ اس کے بعد مجتبیٰ ملک صاحب‘ قبلہ وکعبہ ِ محفل کی جانب رجوع کیا۔ آپ نے ایک عدد پر لطف گھونٹ بھرا‘ اور کرسی سے سر ٹکا کر بولے، ”فیض“!
فیض صاحب ہم سب کو بے حد پسند ہیں۔ مگر مجتبیٰ صاحب سے فیض کی شاعری سن کر جو سماں بندھتا ہے‘ فیض سے عشق ہو جاتا ہے۔ اج انہوں نے فیض کی مشہور ِ زمانہ نظم” دو عشق“ سنانے کا فیصلہ کیا۔ عنوان لینے پر ہی حاضرین ِ محفل نے قبلہ و کعبہ کو نہ صرف دل کھول کر داد دی بلکہ اس کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔ 
دو عشق
(۱)
تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقیِ گلفام
وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام
وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت
وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام

امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ
لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر
لو ڈوب گئے درد کے بے خواب ستارے
اب چمکے گا بے صبر نگاہوں کا مقدر

اس بام سے نکلے گا ترے حسن کا خورشید
ا ±س کنج سے پھوٹے گی کرن رنگِ حنا کی
اس در سے بہے گا تری رفتار کا سیماب
ا ±س راہ پہ پھولے گی شفق تیری قبا کی

پھر دیکھے ہیں وہ ہجر کے تپتے ہوئے دن بھی
جب فکرِ دل و جاں میں فغاں بھول گئی ہے
ہر شب وہ سیہ بوجھ کہ دل بیٹھ گیا ہے
ہر صبح کی لوتیر سی سینے میں لگی ہے

تنہائی میں کیا کیا نہ تجھے یاد کیا ہے
کیا کیا نہ دلِ زار نے ڈھونڈی ہیں پناہیں
آنکھوں سے لگایا ہے کبھی دست صبا کو
ڈالی ہیں کبھی گردنِ مہتاب میں باہیں

(۲)
چاہا ہے اسی رنگ میں لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
ڈھونڈی ہے یونہی شوق نے آسائشِ منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

ا ±س جانِ جہاں کو بھی یونہی قلب و نظر نے
ہنس ہنس کے صدا دی، کبھی رو رو کے پکارا
پورے کیے سب حرفِ تمنا کے تقاضے
ہر درد کو اجیالا، ہر اک غم کو سنوارا

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحتِ داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی

اس راہ میں جو سب پہ گزرتی ہے وہ گزری
تنہا پسِ زنداں، کبھی رسوا سرِ بازار
گرجے ہیں بہت شیخ سرِ گوشہَ منبر
کڑکے ہیں بہت اہلِ حکم برسرِ دربار

چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق، نہ ا ±س عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے ، اس دل میں بجز داغِ ندامت
پوری نظم کا ایک ایک شعر لطف انگیز رہا ۔ یار لوگوں نے اسے بعینہ ویسے سنا جیسے نیا نیا کالج جانے والا بچہ پہلی بار شیلا کے جوان گانے سن رہا ہو۔ 
تخلیقات کی باری آئی۔ آج روﺅف نے بہت ہی شاندار غزل پیش کی۔ یہ جون ایلیا کے انداز میں تھی اور جان کی ہی ایک غزل کی بحر میں لکھی گئی تھی۔

تمہیں مجھ سے محبت ہو رہی تھی 
وہ جو ہو رہی تھی‘ ہوگئی کیا؟

ہمیشہ کی طرح تم نے پکارا
پکارا‘ پکار کے پھر سو گئی کیا؟

ستم کر کے بھی طعنے دے رہی تھی
مری قسمت مجھی پہ رو گئی کیا؟

اٹھا پھینکا مجھے دنیا میں جب سے
مری جنت! تو تب سے کھو گئی کیا؟

اچھی غزل تھی، بہت سراہی گئی۔ وقاص نے کل کے عندیے پر آج کچھ نہ پیش کیا ۔ میں نے اپنی ایک نامکمل غزل آج ہی مکمل کی تھی ‘ وہی پیش کر دی۔
مرے قاتل ! ترے ادراک پہ آجاتے ہیں
کیا فقط ہم ہی رہ ِ عشق ووفا جاتے ہیں

آنجہانی ہی سہی دل میں پڑی ہے اب تک
یہ جو خواہش ہے اسے اب‘ دفنا جاتے ہیں

مقتل ِ دیں ہے کھلا ‘ سو یونہی چلتے چلتے 
دل مرتد کو سنانوں سے سجا جاتے ہیں

کبھی مسجد‘ کبھی مند ر کا ڈراوا دے کر 
چلے آتے ہیںصنم بن کے خدا جاتے ہیں
اچھی خاصی داد سمیٹی ۔علی عمار یاسر کی طرف سے یہ اشعار وارد ِ محفل ہوئے۔

شدتِ ہجر سے ہے کم تلخی میں 
زہر پی جیئے اور خوب جھوما جائے

بے سبب ہی ڈالئے سروں پہ خاک
گلیوں گلیوں بے سبب گھوما جائے

ہائے وہ لب! وہ شیریں لب!
بے خودی میں اپنے لبوں کو چوما جائے
جواں غزل تھی، جوانوں کو بڑی بھائی۔
مجتبیٰ صاحب نے آج بھی بڑی عمدہ تخلیق پیش کی۔
جب سے تیری چاہت کے سزاوار ہوئے ہیں۔۔
خود اپنے لئے باعث ِآزار ہوئے ہیں۔۔

کچھ تم سناو ¿ عشق کا انجام کیا ہوا؟
ہم تو متاعِ کوچہ و بازار ہوئے ہیں۔۔

آنے کی ترے سن کے خبر، آج دفعتا۔۔
حیراں مرے گھر کے در و دیوار ہوئے ہیں۔

یاروں کی بندہ پروری، کہ اس جہان میں۔۔
جتنے کشادہ دل تھے، مرے یار ہوئے ہیں

اس شاندار غزل کا آخری شعر اس محفل کے یاروں کے نام تھا۔ اس کے ساتھ ہی اگلی رات تک کے لیے محفل برخاست ہو گئی۔

صہیب مغیرہ صدیقی
 جولائی28 ..  2013

مکمل تحریر >>

29 جولائی، 2013

رودادِ محفل۔27 جولائی 2013


    2013، ہفتہ  ،جولائی27
 
آ ج کی رات ہماری ہنسی کے نام۔۔۔ آج کی رات ہم یاروں کے قیلولہ کے نام۔۔ آج کی رات غوری صاحب کے ذوق مزاح                       کے نام۔۔۔ آ ج کی رات دل نا کردہ کار کو مجبوراََ کہنا پڑا کہ بس
مسکین کو پرسوں کے جرمانے کے عوض بوتلوں کا انتظام خود کرنا پڑا ، سو کیا۔روﺅف کو پکڑا۔ شومئی قسمت وقاص        خود ہی آن پہنچا، کچھ ہی دیر میں یہ مختصر گروہ بیت المال کے سکول جا پہنچا۔دروازہ پیٹا۔ غوری صاحب دروازے تک تشریف لائے ہی تھے کہ وقاص مغیرہ اقبال صاحب کے دل میں خدا جانے کیا آئی۔دروازے کا ہینڈل پکڑ کر جھول گیا۔ اب دروازے پر زور اس قدر پڑا کہ صاحب اندر سے کھینچ کھینچ کر تھک گئے مگر مجال ہے جو کھل جائے۔ خیر ، بھلے وقتوں کی نیکیاں کام آئیں ، وقاص نے خود ہی دروازے پر گرفت ڈھیلی کر دی۔اندر داخل ہوئے۔مرشدین و قبلتین کو سلام عرض کیا، مجتبیٰ صاحب کی جیب سے دس روپے برآمد کر کے عاجز ہی برف لینے باہر گیااور ہمیشہ کی طرح مظلوم روﺅ ف ہی گلاس دھوکر لایا۔کچھ ہی دیر میں علی بھی آن پہنچا ۔ آج قہقہوں کی رعنائی ہی عجیب تھی۔آغاز سے پہلے ہی بات بات پرقہقہے گونج رہے تھے۔ موسم کا مزاج بھی شاید نرالا تھا۔ مئے دورِ جدید کی مقدار بھی زیادہ تھی۔ اسی سحر زدہ ماحول میں انتخاب روﺅف سے محفل نے آغاز پکڑا۔انہوں نے مرزا غالب کا انتخاب کیا ،راحت کی آواز میں گائی جانے والی غالب صاحب کی معروف دو غزلوں کے اشعارپیش کر دئیے۔اشعار کا حسن اپنی طرف، روﺅف صاحب نے جس طرح اپنی ہنستی آواز میں گا کر سنایالطف ہی آگیا۔
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال ِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا
یہ مسائل ِ تصوف، یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
اس کے بعد جب ”کوئی امید بر نہیں آتی “ کا ترنم شروع ہوا تو تمام معززان ِ محفل نے باجماعت ہو کر پروفیشنلز کی طرح تالیاں(بلکہ واضح طور پر کہوں تو”تاڑیاں“) پیٹنی شروع کر دیں۔بس صاحب! وہ سماں بندھا کہ واہ
کوئی امید بر نہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
آگے آتی تھی حال ِ دل پہ ہنسی
اب کسی بات پر نہیں آتی
موت کا اک دن معین ہے 
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
کعبے کس منہ سے جاﺅ گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی
وقاص کی باری آئی ۔صاحب ذرا سا کھانسے‘ انتخاب کے لیے اعلان فرمایا، ''نواز دیوبندی ''۔۔اور پھر کچھ یوں گویا ہوئے۔
وہ رلا کر ہنس نہ پایا دیر تک
جب میں رو کر مسکرایا دیر تک
خود بخود بے ساختہ میں ہنس پڑا
اس نے اس درجہ رلایا دیر تک
بھوکے بچوں کی تسلی کے لیے
ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک
گنگاتا جا رہا تھا ایک فقیر
دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دیر تک
کل اندھیری رات میں میری طرح
ایک جگنو جگمگایا دیر تک
غزل کا تخیل عمدہ تھا ۔ بے حد مزا آیا۔
یہاں پہنچ کر اچانک غوری صاحب نے استفہام کیا،”آپ میں سب صحت مند حضرات ہیں، روزے سب کے سب کس نے رکھے ہیں؟؟؟“ محض علی ہی ایسا مرد مجاہد تھا جس نے تمام کے تمام روزے رکھے تھے ۔ بڑے اعتماد سے سینے پر ہاتھ رکھ کر اعلان کیا۔بس!   
 لو اپنے آ پ دام میںصیاد آگیا                                                       
اس کے بعد کے واقعات کو پیش کرنا کافی مشکل ہے ۔ کانٹ چھانٹ کی جائے تو لطف ختم ہو جائے گا، نہ کی جائے تو قارئین کا اخلاق۔۔۔۔۔ جب علی نے روزے کا حل” قیلولہ “ بتایا تو غوری صاحب کی طرف سے ایک عدد خطرناک دستی واقعہ پیش ہو گیا۔ اس کے بعد قہقوں کا وہ طوفان شروع ہوا کہ جسے روکنا کسو کے بس میں نہ تھا۔ قیلولہ کی طبی اور طبعی فضائل گنتے گنتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ دوست پیٹ پکڑ پکڑ کر ہنستے رہے۔یار لوگوں نے قیلولہ کی تعریف ہی بدل دی۔ یہاں پر تفصیلات نہ لکھنے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
ذرا دیر کے بعد جب حالت کچھ کہنے کی حالت میں آئے تو مجھ سے انتخاب طلب کیا ۔ میں نے اقبال کی بال جبریل کی معروف نظم پیش کر دی۔
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں 
آب وگل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں 
کارواں تھک کر گضٓ کے پیچ وخم میں رہ گیا
مہر و ماہ و مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں 
بے حجابی سے تری ٹوٹا نگاہوں کا طلسم 
اک ردائے نیلگوں کو آسماں سمجھا تھا میں 
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تما
 اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں 
کہہ گئیں رازِ محبت پردہ داریہائے شوق
تھی فغاں وہ بھی جسے ضبط فغاں سمجھا تھا میں
تھی کسی درماندہ راہرو کی صدائے دردناک 
جس کو آوازِ رحیل کاروں سمجھا تھا میں
اس کے بعد علی کی طرف مڑے ۔ شاعر کے نام کا اعلان ہوا،” مصطفی زیدی“ اور پھر جب نظم کا عنوان گونجا تو تو نظم پیش ہونے سے پہلے ہی شور مچ گیا۔نظم کا عنوان تھا  ”آخری بار ملو“۔
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوے دل
راکھ ہو جائیں ،کوئی اور تمنا نہ کریں
چاکِ وعدہ نہ سلے،زخمِ تمنا نہ کھلے
سانس ہموار رہے ،شمع کی لو تک نہ ہلے
باتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آ کر گن جائیں
آنکھ اٹھائے کوءامید تو آنکھیں چھن جائیں

ا ±س ملاقات کا اس بار کوءوہم نہیں
جس سے اک اور ملاقات کی صورت نکلے
اب نہ ہیجان و ج ±نوں کا نہ حکایات کا وقت
اب نہ تجدیدِ وفا کا نہ شکایات کا وقت
ل ±ٹ گءشہرِ حوادث میں متاعِ الفاظ
اب جو کہنا ہو تو کیسے کوءنوحہ کہیے
آج تک تم سے رگِ جاں کا کءرشتے تھے
کل سے جو ہوگا اسے کون سا رشتہ کہیے

پھر نہ دہکیں گے کبھی عارضِ و ر ±خسار ملو
ماتمی ہیں دَمِ رخصت در و دیوار ملو
پھر نہ ہم ہوں گے ،نہ اقرار،نہ انکار،ملو
آخری بار ملو۔

محفل عش عش کر اٹھی۔ انتخاب ہی ایسا تھا۔ اس کے بعد مجتبیٰ صاحب کی باری آئی۔ آپ نے اب کی بار ایک نہایت مترنم اور منفرد سی آزاد نظم پیش کی، جو اب تک ان کے لہجے میں کانوں میں گونج رہی ہے۔
کوک میرے دل کوک
ہر سینے کونے چار
ہر کونے درد ہزار
ہر درد کا اپنا وار
ہر وقت کی اپنی مار
تیرے گرد و پیش ہجوم
کئی سورج چاند نجوم
ہر جانب چیخ پکار
تیری کوئی سنے نہ ہوک
کبھی کوک میرے دل کوک
ہر سینے آنکھیں سو
ہرآنکھ کی اپنی لو
پر پوری پڑے نہ ضو
کبھی پھوٹ سکی نہ پو
تیرے صحن اندھیرا گ ±ھپ
تیری اللہ والی چ ±پ
تیری مٹی ہو گئے جو
تیری کون مٹائے بھوک
کبھی کوک میرے دل کوک
ہر سینے سو سو جنگ
تیری سانس کے رستے تنگ
تیرا نیلا پڑ گیا رنگ
لمحوں کے خنجر تیز
ہر دھار اذیت خیز
تیرا نازک اِک اِک انگ
تیرا اِک اِک تار ملوک
کبھی کوک میرے دل کوک
لطف ہی آگیا۔
اس کے بعد تخلیقات کا دور چلا۔آغاز ہمیشہ کی طرح عبد الرﺅف سے ہوا۔اب کی بار رﺅف نے بڑے خوبصورت انداز میں ایک ہی شعر پیش کیا۔

باری آئی وقاص مغیرہ اقبال کی ۔ جناب والا کی طرف سے درج ذیل آزاد نظم پیش ہوئی۔

تمہاری تصویر دیکھی ہے
آنکھوں میں نمی اور منجمد چہرہ
میں نے اداسی کو تمہارےچہرے پر رقص کرتے دیکھا ہے
ہاں! میں نے تمہاری اداس تصویر کو دیکھا ہے
کیوں؟ آخر کیوں۔۔؟؟
اسی لئے چھوڑا تھا نا؟؟
کہ میں تمہیں خوش نہیں رکھ سکتا،
سو ! چھوڑ دیا تم نے، منہ موڑ دیا تم نے
جب اپنی مرضی کر ہی لی تو پھر یہ اداسی؟
یہ افسردہ سا چہرہ اور چشم نم تمہاری آج؟
میں جی تو رہا ہوں نا!
اب میں گھٹ گھٹ کے بھی نہیں جی سکتا؟
معاف کرنا، مگر میں خدا نہیں کہ بے حس و غافل دیکھتا رہوں
نہیں میری جان نہیں ایسے نہ کرو
تمہاری وہ دل گیر مسکراہٹ،
شوخ مزاج، الہڑسی،وہ حسن بے حساب،چنچل اور پھر وہ تمہارے گال پہ قاتل ، تل
اف خدایا!
تم تواوروں کو اداس کیا کرتی تھی اور آج خود؟؟
جانتی ہو تمہارے چھوڑ جانے پر ، بہت کھویا بہت رویا
پھر ایک دن ڈھونڈنے نکل پڑا،
کسی ایسے کو کہ اسے دیکھ کر اپنا غم بھول جائے
جانتی ہو مجھے کیا ملا؟؟
دنیا! ہاں میری جان دنیا ملی مجھے
جابجا بے کفن و لاوارث لاشیں،جابجا بکتے جسم،
خون میں لتھڑے ہوئے ،کٹے پھٹے جسم،
آنسو، یتیم بچے،نام غیرت پہ قتل،حوس کے پجاری،
انسان انسان کا خونی، اور ان سب کے ذمہ دار!
فراعین وقت۔۔۔۔
دن میں کئی بار مرتا ہوں مگر میری جاں!
تمہای وہ افسردہ تصویر!!! ایسی کہ اس سے بڑا کوئی درد نہیں 
پھر دیکھی تو شاید موت کے مرنے تک مر جاو ¿نگا
خدارا خوش رہا کرو! خدارا خوش رہا کرو!

  جناب کے بعد مسکین کی کرسی تھی ، مسکین نے اپنے پرانے سٹاک سے ایک مختصر سی آزاد نظم” مشکل“ پیش کر دی۔

سنا ہے تلخی ایام سے لاچار ہوچکے 
برباد ہو چکے ‘ وہ بے زار ہو چکے 
گر یوں ہے 
تو بے تشنہ و آباد کیوں نہ ہم
سرِ عام کوئی ہجر کا ازالہ کر چلیں
بڑی مشکل سے ‘ اپنے دل سے 
ہمیں نکالا تو کیوں نہ ہم
مر کر ذرا مشکل میں اور اضافہ کر چلیں

ایک ذرا روایتی سی داد کی ٹوکری اٹھا کر دل میں ڈالی اور آگے جناب علی عمار یاسر کی طرف رخ کیا۔ اب کے علی ایک چھوٹی سی فکاہیہ تحریر لکھ لائے تھے۔تحریر پڑھ کر جم کے ہنسے۔ مگر تحریر کورا مزاح نہیں تھی ۔ اس میں بھی ایک لمحہ ِ فکریہ نظرمل گیا تھا۔ مگر مزاح کا عنصر غالب تھا۔کہیں ہلکے نشتر کے ساتھ چھوٹے چھوٹے طنز، خوب لطف دے گئے مثلاََ لکھتے ہیں۔
” دیوانِ غالب ڈیڑھ دو سو میں بآسانی مل جاتا ہے۔اس سے سستا تو فی زمانہ ضمیر ہی ہے۔“
اسی طرح،کم عمری میں کتابوں سے تعلق جڑ جانے پر دوسرے بچوں کو کمال تاسف سے دیکھتے ہوئے جو خود پر طنز مارا ہے وہ بہت بڑا کمال ہے۔ایک اپنے ہم عمر کو سائیکل چلاتے دیکھا۔ اس پر لکھتے ہیں:
”دائیں ہاتھ سے جانگیہ کھینچا اور بایاں ہاتھ ناک پر رکھ کر سرڑ رڑ رڑرڑ کی اور دل میں سوچا کہ ابھی بچہ ہے۔ ایک دو کتابیں پڑھ لے تو سائیکل وائیکل بھول جائےگا۔“
ادباءکی ان کی زندگی میں نا قدری اور بعد از وفات ہاتھوں ہاتھ بکری پر بڑا خوبصورت جملہ جوڑا:
”دو چار روز ہم اہلِ ہنر بھی جی لیں ، اگر یہ لفظ ہماری حیات میں ہی بک جائیں۔“
علی کو بے حد داد ملی ۔ہنسی کے چھوٹتے فوارے بجائے خود دلیل تھے کہ علی نے شاندار لکھا ہے۔
جناب قبلہ و کعبہ ‘ مجتبیٰ ملک صاحب نے معذر ت کے ساتھ ایک زیر تکمیل نظم کا پہلا جملہ ہی پیش کیا
،
میرے عزیزو!
ہماری چپ نے نجانے کتنی ہی سرگوشیوں کو 
گرج کا درجہ عطا کیا ہے۔

آج ایک نیا کمال ہوگیا۔ آج غوری صاحب نے اپنے دو اشعار پیس کیے۔ ہم نے آج تک غوری صاحب کو محض چچا غالب کا زبردستی کا ہمزاد ہی سمجھا تھا، جن پر گاہےبگاے واہیات کا الہام پوتا رہتا ہے۔ مگر۔۔۔ اب کے انہوں نے درج ذیل اشعار پیش کر دیے۔۔

                        اے خدا تیری سخاوت کا جب بھی ذکر چلا
نکلنا خلد سے آدم کا بہت یاد آیا

اور ابھی اس شعر پر ستایشی جملے ختم نہیں ہوئے تھے کہ ایک اور شعر پیش ہوا۔۔۔

سزا کے طور پر بھیجا گیا ہوں دنیا میں
منتظر ایک سزا اور ابھی باقی ہے۔۔

یار لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ غوری صاحب کے تخیل کا صحیح ادراک آج ہوا تھا۔
اس کے ساتھ ہی محفل برخاست ہوگئی۔گھر پہنچتے ہی روداد لکھنا چاہتا تھا ۔مگر بڑے بھائی صاحب نے اپنے آمرانہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سسٹم پر پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین کھیلا جانے والاٹی ٹونٹی میچ دیکھنے کا اعلان کیا۔ نتیجتاََکل کی روداد بھی آج ہی لکھ رہا ہوں۔
صہیب مغیرہ صدیقی
جولائی 29 ۔۔۔ 2013


مکمل تحریر >>

27 جولائی، 2013

رودادِ محفل 26 جولائی 2013

26/07/2013                                          جمعرات                                                             16 رمضان المبارک
   
    تین کنچے ایک نئے ساتھی ‘ حافظ وقاص کے ہمراہ سکول کی جانب رواں دواں تھے کہ جناب غوری صاحب کا حکم نامہ بذریعہ دستی ہاتف موصول ہوا کہ کل کی غیر حاضری کا جرمانہ ‘ مئے دورِ جدید کی ایک سب سے بڑی جسامت کی مینا کی صورت لیتے آنا۔ اسی غم میں صفِ ماتم بچھا ئے ہم سکول کے گیٹ پر پہنچے۔ مسکراہٹوں کا دروازہ کھلا اور موصوف راقم‘ جناب مجتبیٰ صاحب کے حضور تسلیمات عرض کرتا ہوا اندرداخل ہوگیا۔ چھت پر پہنچ کر علی عمار یاسر سے بالواسطہ رابطہ کر کے جلد پہنچنے کی تاکید کی اور خود ‘رو بہ قبلہ (قبلہِ محفل) ہو کر بیٹھ گیا۔حافظ وقاص کو محفل کے اغراض و مقاصد اور معاشی اعتبار سے خونخوار اصول ( مبلغ 20/- روپے روزانہ بہ عوض مینائے دورِ جدید) سے روشناس کرایا۔ اتنے میں محترم علی عمار یاسر بھی آن پہنچے۔
   
آج علی کی طبیعت پر ناسازی کا گمان گزرا۔ اول تو پہنچتے ہی حضور نے حقیر فقیر ‘ پر تقصیر ‘ بندہ ناداں‘ ہیچ مداں‘ مسکین راقم کو کھڑی تحسین ( سٹینڈنگ ایوی اے شن) دے ماری ( گویا کہہ رہے ہوں‘ میاں! میری تخلیق پر یہ بعینہ واپس نہ ملی تو اگلی ملاقات اکیلے میں ہوگی)۔ دوم یہ کہ حضور والا نے اعلان کر ڈالا کہ آج بوتل ان کی طرف سے ہوگی........ عوام الناس کو سکتہ آگیا۔سانس اکھڑنے لگ گئے ۔ خواب کا گمان زور پکڑنے لگا۔ مگر ان کا اعلان درست تھا۔ حسب معمول رووف صاحب ہی گلاس دھو لائے اور میں ہی بوتل لے کر آیا( اس امتیازی سلوک پر ہر دو مظلومین کی طرف سے جلد احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا)
    محفل انتخاب کی طرف بڑھی ۔ عبدالرووف صاحب نے ایک نہایت ہی عمدہ نظم سے آغاز لیا ۔ انداز بیاں کی انفرادیت نے نظم میں جان ہی ڈال دی۔

ﯾﮩﯽ ﻭﻋﺪﮦ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﺎﮞ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺧﻮﺵ ﮨﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﮨﮯ
ﻟﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺩﯾﮑھ ﻟﻮ ﺁ ﮐﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻢ
ﯾﮧ ﮐﺘﻨﯽ ﺷﻮﺥ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻢ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻏﻢ ﺍﮔﺮ ﺁﯾﺎ
ﺍﺳﮯ ﮨﻨﺲ ﮐﺮ ﺳﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻢ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﭘﺮﺳﮑﻮﮞ ﮨﻮﮔﺎ
ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﻭﮦ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﭘﻮﺭﺍ
ﻣﮕﺮ ﺍﮎ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﮯ
ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﻭﻗﺖ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﭘﮍﮬﻨﺎ
ﺗﻤﮭﯿﮟﻣﺤﺴﻮﺱ ﺗﻮ ﮨﻮﮔﺎ
ﮐﮩﯿﮟ ﺗﻠﺨﯽ ﺑﮭﺮﺍ ﻟﮩﺠﮧ
ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺳﺮﺩ ﺳﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ
ﮐﮩﯿﮟ ﭘﮧ ﺩﺭﺩ ﮐﯽ ﺟﮭﯿﻠﯿﮟ
ﮐﮩﯿﮟ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﮐﮍﻭﺍﮨﭧ
ﺳﻨﻮ
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﺗﻮ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ
ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺮ ﻟﻔﻆ ﺭﻭﭨﮭﺎ ﮨﮯ

    اس کے بعد آج کے مہمان‘ جناب حافظ وقاص صاحب نے اپنی پسند کی ایک غزل سنائی ۔ حافظ وقاص الفاظ کو بڑے منفرد انداز سے چھوڑتے ہیں ۔ڈھیلے ڈھیلے الفاظ ہونٹوں سے پھسل کر کانوں تک پہنچتے پہنچتے کافی ستایش سمیٹ چکے ہوتے ہیں۔
    ان کے بعد باری آئی وقاص مغیرہ اقبال کی ۔وقاص غالب کی ایک مشہور غزل کے تین اشعار سنانے کا ارادہ رکھتے تھے۔مگر ابھی پہلا شعر ہی پیش ہوا تھا
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

       
    یکلخت علی عمار یاسر اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے موبائل کو منصفین( محفل میں شریک دیگر صاحبان) کی طرف لہراتے ہوئے بولے ۔۔۔ میں آج یہی غزل سنانے جا رہا تھا ۔۔یہ دیکھیے میں نے ڈھونڈ کے رکھی ہوئی ہے۔۔ منصفین نے دلاسہ دیا کہ یہ صاحب محض تین اشعار پیش کریں گے باقی کی غزل جناب سے سنی جائے گی۔
    بہرکیف، تین اشعار پڑھے گئے ۔ آخری شعر پر محفل نے آسمان چھت پر دے مارا۔
                
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
           دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
   
پھر سات افراد کی 14نگاہیں مجھ مسکین کے خوفزدہ چہرے پرآن رکیں ۔ مسکین نے آل تو جلال تو کا ورد کر کے ایک عدد آزاد نظم جڑ دی

مجھے زندگی کی کتاب میں
کوئی ایسا حرف نہ مل سکا
جسے مثلِ گل کا خطاب دوں
جسے چاندنی کی سی تاب دوں
جسے ڈھونڈ کر‘ جسے کھوج کر
رخِ آسماں پہ سجا بھی دوں

میرے خونِ دل کی نگارشیں
میرے روح تک کے فشار بھی
یہاں علم وفن کی دکان پر
بڑے سستے داموں سے بک گئے

مجھے توڑ کر‘ مجھے پھوڑ کر
میرے دوستوں نے جلا دیا
رہ زندگی کے غبار میں
میری راکھ تک کو اڑا دیا
مجھے پھر بھی کوئی گلہ نہیں
جو ملا نہیں سو ملا نہیں
   
خیر سے داد و تحسین کے معاملے میں یار لوگ سب کے سب زندہ دل واقع ہوئے ہیں ۔ سو بے تحاشہ بخش دی۔ ہم نے بھی سنبھال کر جیب میں ڈال لی۔اب نگاہیں علی عمار یاسر کی جانب اٹھیں۔ علی عمار یاسر نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں چچا جان کی غزل پیش کی ۔

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اس سے میرا مۂ خورشید جمال اچّھا ہے
بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے بے
طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہے
وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے
دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے
ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے
قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ جس کا کہ میٰل اچّھا ہے
 ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

محفل عش عش کر اٹھی۔ پڑھی تو سب نے بہت بار ہوگی، مگر جس انداز میں علی نے سنائی ، گمان گزرا کہ آج پہلی بار واسطہ پڑا ہے۔ ہر ہر شعر پر ....ہائے ۔۔۔۔ مار ڈالا۔۔۔۔ ظالم۔ ۔۔ آہ۔۔۔۔ جیسے دردناک نعرے بلند ہوتے رہے۔
   
نویدغوری صاحب پر بڑی دیر سے واقعات کا الہام چل رہا تھا۔ چچا غالب سے ٹیلی پیتھک رابطے کے باعث ان کے احاطہِ ادراک میں غالب کی غیر مطبوعہ شاعری ‘ ان کہے واقعات اور عالم برزخ سے تازہ کلام مسلسل وارد ہوتا رہتا ہے۔ ویر کے گھوڑی چڑھنے کی خوشی ہو یا گوری رنگت کے پیمانہِ الفت و محبت نہ ہونے پر دلائل ۔۔۔ ہمہ قسم کی گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر چچا اخلاق باختہ ہوگئے ہیں۔
    محفل‘ کعبہِ محفل کی جانب مڑی۔ انہوں نے نون ۔ میم ۔ راشد کی شاہکار نظم دے ماری۔

           زندگی سے ڈرتے ہو؟؟
زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں!
آدمی سے ڈرتے ہو؟
آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں! آدمی زباں بھی ہے، آدمی بیاں بھی ہے،
اس سے تم نہیں ڈرتے!
حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدمی ہے وابستہ
آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ
اس سے تم نہیں ڈرتے!
’ان کہی‘ سے ڈرتے ہو
جو ابھی نہیں آئی، اُس گھڑی سے ڈرتے ہو
آس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو!
پہلے بھی تو گزرے ہیں،
دور نارسائی کے، ’بے ریا‘ خدائی کے
پھر بھی یہ سمجھتے ہو، ہیچ آرزو مندی
یہ شبِ زباں بندی، ہے رہِ خدا وندی!
تم مگر یہ کیا جانو،
لب اگر نہیں ہلتے، ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں
ہاتھ جاگ اُٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر
نور کی زباں بن کر
ہاتھ بول اُٹھتے ہیں، صبح کی اذاں بن کر
روشنی سے ڈرتے ہو؟
روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں،
روشنی سے ڈرتے ہو!
شہر کی فصیلوں پر
دیو کا جو سایہ تھا پاک ہو گیا آخر
رات کا لبادہ بھی
چاک ہو گیا آخر
اژدہامِ انساں سے فرد کی نوا آئی
زات کی صدا آئی
راہِ شوق میں جیسے راہرو کا خوں لپکے
اک نیا جنوں لپکے!
آدمی چھلک آٹھے
آدمی ہنسے دیکھو، شہر پھر بسے دیکھو
تم ابھی سے ڈرتے ہو؟
ہاں ابھی تو تم بھی ہو، ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں،
تم ابھی سے ڈرتے ہو!


    الفاظ پر دباﺅ‘ ٹھہراﺅ اور زیر وبم کا وہ خوبصور ت امتزاج کہ حاضرین نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اس نظم کے اختتام پر محفل نے متفقہ طور پر ”زندگی سے ڈرتے ہو“ از نجم الا صغر کا بھی مطالبہ کر ڈالا۔ چوتھی بار بھی ‘ مجتبیٰ صاحب کی آواز میں گونجنے والی اس نظم کے ہر ہر مصرعے پر واہ واہ گونجتی رہی ۔ بلا شبہ اس نظم کو ان سے زیادہ اچھے انداز میں کوئی نہیں پڑھ سکتا۔

    اب تخلیقات کی باری آئی ۔ رووف کی طرف سے یہ اشعار پیش کیے گئے اور خوب سراہے گئے:

تم کو بس جانا ہی تھا‘ یوں ہم کو تڑپانا ہی تھا
کیوں مانوں یہ جی کی بپتاکہ تم کو لوٹ کے آنا ہی تھا

کیوں اٹھاﺅں ناز تمہارے ‘ کیوں کر لیے کشکول پھروں
تم کو لوٹ آنا ہی تھا ‘ پھر یوں چھوڑ کے جانا ہی تھا؟؟؟
    
حافظ وقاص صاحب کی طرف سے ایک شعر کے بعد وقاص مغیرہ اقبال کی جانب سے ایک عدد انتہائی جاندار تخیل والی نظم پیش کی گئی۔

وہ معصوم سے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
دو معصوم سے بچے، ننھے سے وہ بچے
پھر یوں ہوا رمضان آیا
نیکیاں خوشیاں ساتھ وہ لایا
بچوں نے بھی روزہ رکھا 
عقیدت جو رمضان سے تھی
و قت افطاری آن پہنچا
سامان لینے افطاری کا ، گھر سے باہر جا نکلی ماں
کھجور اور اسکی گٹلی سامان تھا اس کا افطاری کا
گھر کی جانب رواں دواں، ہاتھوں میں سامان لیے
اسی لمحے! تیز رفتار گولی چیرتے ہوئے سینا ماں کا،جا گرتی ہے دور کہیں
اور پھر۔۔۔ 
ماں کی لاش، وہ تنہا لاش، لاوارث لاش
سڑک پر گھنٹوں پڑی رہتی ہے کہ منتظر
منتظر وہ لاش کہ کب اٹھایا جائے
قبر میں دفنایا جائے
اور دوسری طرف وہ معصوم ، پیارے پیارے ،ننھے مننھے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
بھوکے ایسے کہ جہنم جیسے، پیاس ایسی ک صحرا ہو بہت
انتظار میں بیٹھے کہ کب، آئے گی ماں، کھانا لائے گی ماں
مغرب سے عشا ء ہوتی ہے کہ لوگ تراویح کو نکلتے چلے
مگر وہ دو منتظر بچے۔۔۔!
تھک ہار کر ننھی پری، بہن سے اپنی کہتی ہے
باجی! لوگ تراویح کو چلے گئے اور ہم نے ابھی تک افطاری نہیں کی
اور پھر کنڈی گھر کی بجتی ہے کہ ننھی پری مسکرا اٹھی
خوش ایسے کہ کوئی صدیوں سے بھوکا ایک نوالے کو دیکھ کر کھلکھلا اٹھے
بھاگ کر دروازہ ایسے کھولا کہ جیسے کسی ریس کی کھلاڑی
چار آدمی ایک لاش لئیے کھڑے ہیں دروازے پر 
وہ۔۔۔ لاوارث لاش! 
کہ جس لاوارث لاش کے دو لاواث ورثاء
بچی ماں کے پاس گئی، چپکے سے کانوں میں بولا
امی اٹھ جاؤ بھی اب، امی کھانا دے دو نا، امی بھوک لگی ہے بہت
- See more at: http://kanchay.blogspot.com/2013/07/lawaaris.html#sthash.1h4grtIg.dpuf

بچے!
وہ معصوم سے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
دو معصوم سے بچے، ننھے سے وہ بچے
پھر یوں ہوا رمضان آیا
نیکیاں خوشیاں ساتھ وہ لایا
بچوں نے بھی روزہ رکھا
عقیدت جو رمضان سے تھی
و قت افطاری آن پہنچا
سامان لینے افطاری کا ، گھر سے باہر جا نکلی ماں
کھجور اور اسکی گٹلی سامان تھا اس کا افطاری کا
گھر کی جانب رواں دواں، ہاتھوں میں سامان لیے
اسی لمحے! تیز رفتار گولی چیرتے ہوئے سینا ماں کا،جا گرتی ہے دور کہیں
اور پھر۔۔۔
ماں کی لاش، وہ تنہا لاش، لاوارث لاش
سڑک پر گھنٹوں پڑی رہتی ہے کہ منتظر
منتظر وہ لاش کہ کب اٹھایا جائے
قبر میں دفنایا جائے
اور دوسری طرف وہ معصوم ، پیارے پیارے ،ننھے مننھے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
بھوکے ایسے کہ جہنم جیسے، پیاس ایسی ک صحرا ہو بہت
انتظار میں بیٹھے کہ کب، آئے گی ماں، کھانا لائے گی ماں
مغرب سے عشا ء ہوتی ہے کہ لوگ تراویح کو نکلتے چلے
مگر وہ دو منتظر بچے۔۔۔!
تھک ہار کر ننھی پری، بہن سے اپنی کہتی ہے
باجی! لوگ تراویح کو چلے گئے اور ہم نے ابھی تک افطاری نہیں کی
اور پھر کنڈی گھر کی بجتی ہے کہ ننھی پری مسکرا اٹھی
خوش ایسے کہ کوئی صدیوں سے بھوکا ایک نوالے کو دیکھ کر کھلکھلا اٹھے
بھاگ کر دروازہ ایسے کھولا کہ جیسے کسی ریس کی کھلاڑی
چار آدمی ایک لاش لئیے کھڑے ہیں دروازے پر
وہ۔۔۔ لاوارث لاش!
کہ جس لاوارث لاش کے دو لاواث ورثاء
بچی ماں کے پاس گئی، چپکے سے کانوں میں بولا
امی اٹھ جاؤ بھی اب، امی کھانا دے دو نا، امی بھوک لگی ہے بہت


بچے!
وہ معصوم سے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
دو معصوم سے بچے، ننھے سے وہ بچے
پھر یوں ہوا رمضان آیا
نیکیاں خوشیاں ساتھ وہ لایا
بچوں نے بھی روزہ رکھا 
عقیدت جو رمضان سے تھی
و قت افطاری آن پہنچا
- See more at: http://kanchay.blogspot.com/2013/07/lawaaris.html#sthash.1h4grtIg.dpuf
وہ معصوم سے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
دو معصوم سے بچے، ننھے سے وہ بچے
پھر یوں ہوا رمضان آیا
نیکیاں خوشیاں ساتھ وہ لایا
بچوں نے بھی روزہ رکھا 
عقیدت جو رمضان سے تھی
و قت افطاری آن پہنچا
سامان لینے افطاری کا ، گھر سے باہر جا نکلی ماں
کھجور اور اسکی گٹلی سامان تھا اس کا افطاری کا
گھر کی جانب رواں دواں، ہاتھوں میں سامان لیے
اسی لمحے! تیز رفتار گولی چیرتے ہوئے سینا ماں کا،جا گرتی ہے دور کہیں
اور پھر۔۔۔ 
ماں کی لاش، وہ تنہا لاش، لاوارث لاش
سڑک پر گھنٹوں پڑی رہتی ہے کہ منتظر
منتظر وہ لاش کہ کب اٹھایا جائے
قبر میں دفنایا جائے
اور دوسری طرف وہ معصوم ، پیارے پیارے ،ننھے مننھے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
بھوکے ایسے کہ جہنم جیسے، پیاس ایسی ک صحرا ہو بہت
انتظار میں بیٹھے کہ کب، آئے گی ماں، کھانا لائے گی ماں
مغرب سے عشا ء ہوتی ہے کہ لوگ تراویح کو نکلتے چلے
مگر وہ دو منتظر بچے۔۔۔!
تھک ہار کر ننھی پری، بہن سے اپنی کہتی ہے
باجی! لوگ تراویح کو چلے گئے اور ہم نے ابھی تک افطاری نہیں کی
اور پھر کنڈی گھر کی بجتی ہے کہ ننھی پری مسکرا اٹھی
خوش ایسے کہ کوئی صدیوں سے بھوکا ایک نوالے کو دیکھ کر کھلکھلا اٹھے
بھاگ کر دروازہ ایسے کھولا کہ جیسے کسی ریس کی کھلاڑی
چار آدمی ایک لاش لئیے کھڑے ہیں دروازے پر 
وہ۔۔۔ لاوارث لاش! 
کہ جس لاوارث لاش کے دو لاواث ورثاء
بچی ماں کے پاس گئی، چپکے سے کانوں میں بولا
امی اٹھ جاؤ بھی اب، امی کھانا دے دو نا، امی بھوک لگی ہے بہت
- See more at: http://kanchay.blogspot.com/2013/07/lawaaris.html#sthash.1h4grtIg.dpuf
وہ معصوم سے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
دو معصوم سے بچے، ننھے سے وہ بچے
پھر یوں ہوا رمضان آیا
نیکیاں خوشیاں ساتھ وہ لایا
بچوں نے بھی روزہ رکھا 
عقیدت جو رمضان سے تھی
و قت افطاری آن پہنچا
سامان لینے افطاری کا ، گھر سے باہر جا نکلی ماں
کھجور اور اسکی گٹلی سامان تھا اس کا افطاری کا
گھر کی جانب رواں دواں، ہاتھوں میں سامان لیے
اسی لمحے! تیز رفتار گولی چیرتے ہوئے سینا ماں کا،جا گرتی ہے دور کہیں
اور پھر۔۔۔ 
ماں کی لاش، وہ تنہا لاش، لاوارث لاش
سڑک پر گھنٹوں پڑی رہتی ہے کہ منتظر
منتظر وہ لاش کہ کب اٹھایا جائے
قبر میں دفنایا جائے
اور دوسری طرف وہ معصوم ، پیارے پیارے ،ننھے مننھے بچے
جن کاان کی ماں کے سوا ، کوئی نہیں ہے دنیا میں
بھوکے ایسے کہ جہنم جیسے، پیاس ایسی ک صحرا ہو بہت
انتظار میں بیٹھے کہ کب، آئے گی ماں، کھانا لائے گی ماں
مغرب سے عشا ء ہوتی ہے کہ لوگ تراویح کو نکلتے چلے
مگر وہ دو منتظر بچے۔۔۔!
تھک ہار کر ننھی پری، بہن سے اپنی کہتی ہے
باجی! لوگ تراویح کو چلے گئے اور ہم نے ابھی تک افطاری نہیں کی
اور پھر کنڈی گھر کی بجتی ہے کہ ننھی پری مسکرا اٹھی
خوش ایسے کہ کوئی صدیوں سے بھوکا ایک نوالے کو دیکھ کر کھلکھلا اٹھے
بھاگ کر دروازہ ایسے کھولا کہ جیسے کسی ریس کی کھلاڑی
چار آدمی ایک لاش لئیے کھڑے ہیں دروازے پر 
وہ۔۔۔ لاوارث لاش! 
کہ جس لاوارث لاش کے دو لاواث ورثاء
بچی ماں کے پاس گئی، چپکے سے کانوں میں بولا
امی اٹھ جاؤ بھی اب، امی کھانا دے دو نا، امی بھوک لگی ہے بہت
- See more at: http://kanchay.blogspot.com/2013/07/lawaaris.html#sthash.1h4grtIg.dpuf

نظم میں منظر نگاری بہت خوب کی گئی تھی۔ ہر چند نظم کافی آزاد تھی مگر اس میں منظر ایسا باندھا گیا تھا کہ ایک لمحے کو پوری محفل کو سانپ سونگھ گیا۔اس نظم کے لیے مناسب عنوان کا سوال اٹھا یا گیا تو دوستوں نے”لا وارث“ تجویز کیا۔
    وقاص کی اس نظم کے سحر سے نکلنے کے بعد نگاہیں مجھ پر اٹھیں۔ میں نے اپنی ایک دو سال پرانی ‘ لکھنوی طرز کی مسدس پیش کردی ۔ساتھ میں یہ راز بھی کھول دیا کہ اس میں صنعت توشیح استعمال کی گئی تھی۔

حکم قتل ہے ہر سو ‘ کہ ستم کیا ہے میں نے          مت آ قریب میرے ‘ کہ ظلم کیا ہے میں نے
یاں خاک و خوں میں خود کو یوں ضم کیا ہے میں نے        رودادِ عشقِ دل کو جنم کیا ہے میں نے

 اک ریتِ بزدلاں کو ختم کیا ہے میں نے                                         
               صورت کو اسکی کل شب ‘ نظم کیا ہے میں نے                                

حرفِ وفا کو لکھا خون ِ جگر سے یارو              ممتا زکر دیا ہے اسکو قمر سے یارو
یاں شب کا زور توڑا نور سحر سے یارو             رگ رگ میں اسکو سینچا اپنی نظر سے یارو
         اس حسنِ پر فسوں کو رقم کیا ہے میں نے                            
         صورت کو اس کی کل شب‘ نظم کیا ہے میں نے                      

حرفِ صدا میں بس اک اسی کو ہے پکارا          میں نے جنوں میں آکے ‘ اپنی خودی کو مارا
یہ عشق ہی ہے جس نے آکاش سے اتارا          رخشندہ ‘خوبصورت ‘ روشن سا اک ستارہ
         اس حشر کو حوالہِ قلم کیا ہے میں نے                            
         صورت کو اسکی کل شب نظم کیا ہے میں نے                        

حق گوئی کی سزا ہے ‘ دامن کفن کیا ہے             میرا قصور یہ ہے ‘ اس کو سخن کیا ہے
یادوں کو بویا ‘کاٹا‘ میں نے چمن کیا ہے            رسموں کو لا کے میں نے زندہ دفن کیا ہے
          اندازِ سخن و گو پہ یہ کرم کیا ہے میں نے                           
          صورت کو اسکی کل شب نظم کیا ہے میں نے                      

حور وجمال لکھا ‘ حسنِ کمال لکھا               مئے خانہ ِ مجسم تیرا جمال لکھا
یاں یہ سوال لکھا ‘ کبھی وہ سوال لکھا              رخ یار کو جو لکھا ‘ تو بے مثال لکھا
         اقبالِ حسنِ حوراں برہم کیا ہے میں نے                          
         صورت کو اسکی کل شب نظم کیا ہے میں نے                      

    دادو تحسین ملتی رہی۔خصوصاََ مجتبیٰ صاحب نے جس انداز میں تعریف کی جی چاہا چھت سے کود جاﺅں۔فرمانے لگے ‘ یار چھوڑو !ہم شاعری ترک کرتے ہیں۔۔ نعوذ باللہ
    علی عمار یاسر۔۔۔ گھر سے سکول آتے آتے ایک عدد نظم لکھ لائے ۔(سکول سے مراد سکول کی وہ عمارت جس کی چھت پر ہم محفل جما کے بیٹھتے ہیں)محفل میں نظم پیش کی گئی۔

 انکل جی ‘ چھوڑیں نا سب گاہک ‘ دیکھیں نا میں آئی ہوں
تھی پچھلے برس جو قیمت پوچھی ‘ آج میں پیسے لائی ہوں

انکل جی ! اس عید پہ میں بھی چاند ستارہ پہنوں گی
گوٹی کنارہ لوں گی اور میں سوٹ بھی پیارا پہنوں گی

جو بھی کچھ ہے مجھ کو لینا ‘ لکھ کے سب کچھ لائی ہوں

یہ والا گوٹی کنارا دے دیں
 چمکتا ہوا ستارہ دے دیں
سرخ رنگ کی گھڑی اٹھا دیں
وہ گڑیا جو ہے کھڑی‘ لادیں
پونی کچھ وہ بڑی اٹھا دیں
کتنے پیسے انکل جی؟؟
365 ؟365 انکل جی! ؟
پچھلےبرس تو ان سب کا
دو سو پچپن بنتا تھا
ان سب کو سوچتے میں نے
ایک ایک دن بتایا تھا
انکل جی!
یہ سب رکھ لیں!
پچھلے برس سے اب تک میں نے سکے سکے جوڑے ہیں
انکل جی میں چلتی ہوں ‘ پیسے اب بھی تھوڑے ہیں !
   
واہ یار علی! آپ کا حساس دل امڈ آیا ہے اس نظم میں ۔ میں خود اسے ٹائپ کرتے کرتے آبدیدہ ہو گیا۔) محفل کا حال بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ علی کی مغموم صدا” پیسے اب بھی تھوڑے ہیں“ گونج رہی تھی۔ سب ایسے گم صم بیٹھے تھے کہ گویا ہم ہی اُ س معصوم کی ننھی ننھی خواہشوں کے قا تل ہیں جو 80 روپے کم ہونے کے باعث اپنے ایک سال کے شیر خوار بچے جیسے خوابوں کو مار کر اسی دکان میں دفنا گئی۔
    اب کے مجتبیٰ صاحب کی باری آئی۔ مجتبیٰ صاحب نے ہاتھ کھڑے کر لیے۔فرمانے لگے‘ بڑی کوشش کی مگر طبیعت مائل ہی نہ ہوئی ۔ یہاں ہم نے نتیجہ نکالا کہ شاعری بھی محبت کی طرح ہوتی ہے۔یہ کی نہیں جاتی‘ ہو جاتی ہے۔ بہر حال ‘ شدید اصرار پر آپ نے اپنی زندگی کا پہلا شعر سنایا۔ ساتویں کلاس میں بھی ہمیشہ کی طرح حضور سالارِ جماعت تھے۔ حساب کا پیپر اچھا نہ ہوا تو استاد محترم نے سزا کے ساتھ جملہ جڑ دیا کہ جناب سے شاعری جتنی کروالو۔۔۔۔ یہاں غالباََ صاحب نے سوچا کے الزام تو لگ ہی چکا ہے سو شاعری بھی ہو ہی جائے۔ سو‘ اس وقت‘ ساتویں کلاس کے ایک طالبعلم نے درج ذیل شعر لکھا
:
                میں دل کے زخم ہی تو لکھتاہوں شوخ لفظوں میں
                 یہ میرا طرزِ تکلم ہے‘ شاعری تو نہیں

   اس کے ساتھ ہی کنچے بلاگ کے بارے میں معمولی گفتگو کے بعدمحفل برخاست ہو کر بٹی اور جلالپور کے طول وعرض میں پھیل گئی۔
صہیب مغیرہ صدیقی                                                                                                                                        
27-07-2013                                                                                                                                              

مکمل تحریر >>

25 جولائی، 2013

روداد محفل۔ 24 جولائی 2013

24-7-2013            بدھ         15 رمضان المبارک
   
        آج جب خواب کی دستک پر دروازہ کھلا تو مجتبیٰ ملک کے مسکراتے چہرے کی بجائے جناب غوری صاحب کے ہنستے چہرے کی زیارت ہوئی ۔ سکول میں قدم رنجہ فرمانے والے صاحبان میں مجھ سمیت ‘ عبدالرووف‘ وقاص مغیرہ اقبال اور شہزاد ریاض بھی تھے۔( شہزاد ریاض کا آج محفل میں پہلا دن تھا)۔ خیر، غوری صاحب ہمیں چھوڑ چلے۔ ( ٹھہریے۔۔۔ غلط سمت میں مت جائیے۔ وہ کچھ دیر کے لیے کام سے باہر گئے تھے)۔چھت پر پہنچنے ہی گفتگو کا مرکزو محور ہمارے بلاگ کی ٹمپلیٹ رہا۔قرآئن ودلائل آتے رہے۔ نقائص و فضائل ابلتے رہے۔ مگر حتمی فیصلہ نہ ہو پایا۔ ( تاہم محفل کے اختتام تک اس کا جمہوری حل یہ نکالا کہ فیس بک پر جس ٹمپلیٹ کے زیادہ لائکس ہونگے وہی منتخب کی جائے گی۔)آج محفل کا باقاعدہ آغاز ”مئے دورِ جدید“ (کوکاکولا) کے بغیر کرنا پڑا۔ ایسا نہیں کہ حاضرین حضرات میں کسر نفسی عود آئی تھی ، بلکہ آج کی مئے دورِ جدید جرمانے کے طور پر جناب قبلہ غوری صاحب کے سر تھی۔
   
آج کوئی ستارہ آسمان پر نہ تھا۔ ایک ”بے غیرت“ نکلا بھی سہی تو علی عمار یاسرنے بیچارے کو وہ بے نطق سنائیں کہ وہ شرم کے مارے گھنے بادلوں میں ڈوب مرا۔بعدازاں محفل کے تمام جوانوں کی توپوں کا رخ چاند کی طرف مڑا۔ اس نے عجلت میں بڑا سے بادل اپنے گرد لپیٹنے کی کوشش کی مگر کسی بد چلن حسینہ کے نقاب کی طرح چہرے کا معمولی سا حصہ ہی چھپا سکا۔اس پر مستزاد یہ کہ قبلہ وکعبہِ محفل جناب مجتبیٰ صاحب نے جگت جڑ دی۔
         ۔"کیوں میاں! مونچھیں رکھ لی ہیں۔“ چاند نامی شریف زادہ اس تیز نشتر کی تاب نہ لاسکا اور منظر عام سے چند ہی منٹوں میں ایسا بھاگا کہ ابھی تک دریافت نہیں ہو پایا ہے۔(دراصل بادل درمیان سے پچکا ہواتھا اور طرفین سے پھیلا ہوا تھا۔ مونچھ کا لفظ اس مظہر کے لیے بہترین تھا۔ مگر ہمیں کب ادراک تھا کہ انسانوں کی طرح اب چاند بھی سچ سننے کی ہمت کھو بیٹھا ہے۔ وگرنہ ہم بھی کہے دیتے۔”کس قدرخوبصورت لپ سٹک لگائی ہے")۔
   
انتخاب کی بات چلی۔آغاز”کنچے“ کی روحِ رواںسے ہوا۔ جاندار آواز ....مسکراتا چہرہ....الفاظ اور انداز میں بے پناہ محبت....زندہ دلی سیکھنی ہو تو کوئی عبدالروﺅف سے سیکھے۔ عبدالروﺅف کی طرف سے محسن نقوی کی شاندار غزل پیش کی گئی۔دادو تحسین جس کثرت سے ملی اس پر دل چاہتا ہے کہ کاش! ان ٹوکروں کی کوئی مادی حیثیت بھی ہوتی!
   
نگاہیں گھومیں ‘ ساتھ والی کرسی پر بیٹھے وقاص مغیرہ اقبال پر جاٹکیں۔ یہ ایکٹو، سوشل اور باغی نوجوان اپنے اندر جوش ‘ ولولے اور ہمت کا ایک کوہ گراں چھپائے ہوئے ہے ۔ یہ خوددار چہرہ بھی ا کثر مسکراہٹیں بانٹتاہے۔ انہی مسکراتے ہونٹوں سے نام برآمد ہوا۔”ابن انشاء“۔ محفل میں محشر بپا ہوگیا۔

دیکھ ہماری دید کے کارن کیسا قابلِ دیدہوا
ایک ستارا بیٹھے بیٹھے تابش میں خورشید ہوا
آج تو جانی رستہ تکتے شام کا چاند پدیدہوا
تو نے تو انکار کیا تھا دل کب ناامید ہوا
آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو کب توفیق ہوئی؟
لب پہ اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدیدہوا
ہاں اس نے جھلکی دکھلائی ایک ہی پل کو دریچے میں
جانوایک بجلی لہرائی عالم ایک شہید ہوا
تو نے ہم سے کلام بھی چھوڑا عرضِ وفا کی سنتے ہیں
پہلے کون قریب تھا ہم سے اب تو اور بعید ہوا
دنیا کے سب کارن چھوڑے نام پہ تیرے انشاءنے
اور اسے کیا تھوڑے غم تھے ؟ تیرا عشق مزید ہوا
       
        آخری شعر کی پھر فرمائش کی گئی۔ پھر سنایا گیا۔ پھر شور بلند ہوا۔ اس کے بعد نگاہیں مسکین ہیچ مدان وبندہ نادان پر آن رکیں۔میں نے فوراََ لبیک کہا اور فیض صاحب کی ” رقیب سے“ پیش کی اورداد کے ٹوکرے سمیٹ کر واپس بیٹھ گیا۔ اب ہمارے نئے مہمان جناب شہزاد ریاض کی باری آئی ،انہوں نے شاکر شجاعبادی کا اردو کلام پیش کیا۔ شاکر....اوجِ کمال کا دوسرا نام ہے، محفل کا رنگ پکڑنا لازم تھا۔ خصوصاََ غزل میں موسیقیت اور ترنم نے تو لطف ہی دوبالا کر دیا۔

اس کے بعد ‘ برجستہ جوابوں کے بے تاج بادشاہ علی عمار یاسر کی باری آئی۔ علی .... ایک تو انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرتاہے ‘ پھر اسکا وہ ظالم لہجہ۔۔ اف! علی عمار یاسر نہایت عمدہ حس مزاح رکھتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بتائے چند لمحے ہی یادگار بن جاتے ہیں۔ یوسفی سے خاصی عقیدت ہے جس کا اثر ان کی زندگی میں بھی بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔
        اب کے علی عمار یاسر نے ابن انشاءکی بستر مرگ پر لکھی جانے والی ‘انکی زندگی کی آخری نظم پیش کی۔

ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاںا پنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب ناما دھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاو ¿ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمرا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ آنکھوں کت جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

سدا مسکراہٹیں بکھیرتے انشا ءجی کی اس نظم میں درد ہی درد تھا ۔ اتنی بے بسی سے 5 سالوں کی ان پوٹلی کو دیکھ رہے تھے کہ دل پر قابو نہ رہا۔اپنی دھیمی آواز میں علی نے پوری محفل کو باندھ لیا تھا۔نظم کے اختتام پر ستایش کے سبھی الفاظ دل سے آواز کا روپ دھار کے نکلے اور زبان کے راستے باہر ابل پڑے۔
   
اب نگاہیں کعبہِ محفل پر جارکیں۔مجتبیٰ ملک صاحب....دھیمی شخصیت اور نرم آواز! فیض کو آج کے دور میں دیکھنا ہو تو ان کے ساتھ ایک دن گزار لیا جائے۔ میں نے مجتبیٰ صاحب کے اور اپنے 6 سالہ تعلق میں انہیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا۔محض مسکراتے دیکھا ہے۔ پھر خوبرو آدمی ہیں‘ لہجہ بھی شخصیت کی طرح لاجواب ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ گائیکی اور خطاطی میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں ۔ایسے میں ہم یاروں کا ببانگ دہل ان کے باقاعدہ” فین“ ہونے کا اعلان کر دینا کوئی عجیب بات نہیں۔مجتبیٰ صاحب نے مئے دورِ جدید کا ایک بے تکلف گھونٹ لیا اور اپنے مخصوص لہجے میں اپنے آج کے انتخاب کا اعلان کیا۔”لیلائے وطن“! اور سات افراد کی تالیوں نے پوری چھت ہلادی۔ یہ نظم مجتبیٰ صاحب سے پہلے بھی کئی بار سنی ہے۔ مگر ان کاشاندار انداز بیاں اور دھیمہ لہجہ ایک عجیب سحرمیں جکڑ لیتا ہے کہ جتنی بار بھی سنی جائے ، لطف کم نہیں ہوتا۔
   
        اتنے میں غوری صاحب بھی آن پہنچے۔ مئے دورِ جدید کے سلسلے میں ان کے ہزار ہا دفاعی حربوں کے بعد بھی(خاطر سے یا لحاظ سے) انہیں منا ہی لیا۔لہٰذا چند ہی منٹوں میں عبدالروو ف صاحب گلاس دھو لائے اورمسکین سڑک کے اس پار، ہجویری ہوٹل سے ”مینائے مئے دورِ جدید“ پکڑ لایا۔
        ہز ہائی نس‘ جناب نوید غوری صاحب کے بغیر محفل حقیقتاََ ادھوری ہوتی ہے۔ان کی آمد کے ساتھ ہی مسکراہٹوں اور قہقہوں کا سیلاب ‘خامشی اور سنجیدگی کے بدنما بند توڑتے ہوئے چہار سو پھیل جاتا ہے۔ جناب غوری صاحب پر واقعات(یا بقول علی عمار یاسر‘....واہیات) کا الہام ہونا شروع ہوگیا۔سنسر کا مسئلہ شدت نہ پکڑ چکا ہوتا تو میں موٹان و لمبان کی تاریخی حیثیت اور راہ حق کے شہیدوں کے قصے بھی لکھ مارتا۔
   
بہر کیف ‘ اب تخلیقات کی باری تھی۔ عبدالرووف کی جانب سے ایک غزل پیش ہوئی۔

جہاں جہاں سے آدم کو روک رکھا تھا
 وہا ں وہاں  پھر وہ کیوں  کر گیا ہوگا

 بنا رہا تھا  وہ جب اک  کاروان  انسانی 
پھر اپنے آپ ہی وہ روح میں اتر گیا ہوگا

 دل کہیں بکھر جائے تو ایسا لگتا ہے 
ذرا سی دیر پہلے تو یا ں زلزلہ ہوگا 

ذرا سا شور  جو سنتا  ہوں  اپنے کانوں میں 
اور کچھ بھی نہیں صاحب غموں کا تعزیہ ہوگا
   
ویسے تو پوری غزل سراہی گئی مگر دوسرا شعر خصوصاََ تحسین سمیٹ گیا۔
        وقاص مغیرہ اقبال نے کچھ نہ پیش کرنے کا عندیہ دیامگر ارباب اختیار(خصوصاََ کعبہ محفل) نے جرمانوں کی وہ وعیدیں سنائیں کہ بالآخر وقاص صاحب کو اپنی ایک زیر تکمیل نظم کے چند فقرے پیش کرنے پڑ گئے۔
   
اب توپیں میری طرف مڑگئیں۔میں نے کان پکڑے بندہ بن کے اپنی آزاد نظم پیش کردی

نہ قوس ِقزح نہ بادصبا
نہ خوش خوش ہنستی آنکھیں ہی
نہ مینا‘ محفل ‘مے خانہ‘
مطرب کی صدا نہ باتیں ہی
گل‘ گلشن ‘رنگیں زار ہی کیوں
دنیا کی دمک برساتیں ہی
تری یاد کے آگے ہیچ ہیں سب
سو پھیکے پھیکے لگتے ہیں

بس ایک خزاں کا موسم ہے
جو پیلے پیلے پتوں میں
تری یاد بسائے پھرتاہے
یا شب کے پچھلے پہر ہیں جو
تجھے حاضر ناظر پاتے ہیں
یا یوں کہیے جب راتوں میں
تری یاد کے بادل آتے ہیں
اور تاریکی کے پانو بھی
چھن چھن چھن کر نچ گاتے ہیں
یا وقت قضا کہ جب سانسیں
گھٹ گھٹ گھٹ کر سی سینے میں
تجھے اپنے پاس بلاتی ہیں
یا وہ لمحہ جب حق والے
میرے دل کے کعبے کے اندر
تری یاد کے بت گرانے میں
ناکام و پسا ہوتے ہیں
تب اپنی ذات کے اندر ہی
ہم کافر کافر ہوتے ہیں
   
رووف کی جانب سے خصوصی تحسین نے کافی طمانیت بخشی۔ مجتبیٰ صاحب کچھ دیر تک سر پکڑ کر عالم وجد میں بیٹھے رہے ۔ پھر فرمانے لگے ” کیا لکھا ہے تم نے“(نوٹ :یاد رہے کہ انہوں نے یہ سب تعریفانہ انداز میں کیا)
        اب بال شہزاد ریاض کی کورٹ میں جاپڑی۔ انہوں نے ایک نہایت عمدہ غزل پیش کی جس میں لکھنوی خارجیت جھلک رہی تھی۔اس پر مستزاد یہ ک ہم سب نوجوان۔۔۔۔ واہ واہ کی آوازوں سے بنچ پر پڑے شیشے کے گلاس لرزنے لگ گئے۔
   
علی عمار یاسر نے” صاحب“ پیش کی ہمیشہ کی طرح سراہی گئی ۔

ظلمتوں میں حیات ہے صاحب
دن کے دھوکے میں رات ہے صاحب
آج بھی سورج نکلنے والا نہیں
 رات کے بعد رات ہے صاحب
یہ جو تم نے ہیں نظریں چرایئں
دل میں کچھ  تو بات ہے صاحب

خصوصاََ مطلع میں صنعت لف و نشر کا استعمال خوب سراہا گیا۔اس کے بعد عوام کی پرزور فرمائش پر تیسری بار ان سے ان کی شاہکار نظم” میں نے اپنی آنکھوں سے “ سنی گئی۔اس باربھی ستائش کسی بھوکے بچے کی طرح علی کے الفاظ پر ٹوٹ پڑی۔

اس کے بعد غوری صاحب کی طرف سے ایک شاندار سنجیدہ شعر پیش ہوا۔ پھر حاضرین نے مجتبیٰ ملک صاحب کی جانب رخ پھیرا۔ جتنی دیر میں ہم دوست چوک سے سکول پہنچے تھے(غالباََ10منٹ یا اس سے بھی کم) اتنی ہی دیر میں انہوں نے ایک غزل لکھ ماری۔
        یہ ممکن ہی نہیں کہ مجتبیٰ صاحب غزل پیش کریں اور نشستوں سے اٹھ کر سند پسندیدگی نہ دی جائے۔ اس کی وجہ محض انکا نام  نہیں بلکہ وہ ہر بار تخلیق ہی ایسی لاتے ہیں کہ دل کو جا لگتی ہے(او ر آواز آتی ہے۔ ”ٹھک“۔)اب کی بار کچھ یوں سخن طراز ہوئے ہیں۔
ایک خواہش ہے، شکائت ہے، گلہ ہے، کیا ہے؟ 
تم بتاﺅ کہ جو یہ عشق و وفا ہے، کیا ہے؟

سینہ دہر میں کھل کے بھی جو پوشیدہ ہے
 جو میرے دل میں نہاں ہو کے کھلا ہے، کیا ہے؟

نوالہ ڈھونڈ ہی لیتا ہے بھوکے پیٹوں کو
جو بہم رزق نہ دے، کیسا خدا ہے، کیا ہے؟

تیری آنکھوں کے ستاروں کی روشنی کی قسم
یہ جہاں گر تیری آنکھوں کے سوا ہے، کیا ہے؟

    قبلہ و کعبہ....آج بھی قبلہ و کعبہِ محفل ہی رہے۔ اس کے بعد محفل برخاست ہوئی اور آٹھ جزیات میں بٹ کر شہر جلالپور پیر والہ کہ آٹھ گھروں میں چلی گئی۔  سات جزئیات تو مبتلائے خواب خرگوش ہیں جبکہ آٹھواں مسکین جزو 12بجے رودادِ محفل لکھنے کے بعدرات کے 2بجے اسے ٹائپ کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ یار زندہ صحبت باقی۔۔
                        صہیب مغیرہ صدیقی
                         26 July, 21013.            
مکمل تحریر >>
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll