30 جولائی، 2013

جب لگے زخم تو قاتل کو دعا دی جائے ~ جانثار اختر

شاعر: جانثار اختر
انتخاب: وقاص مغیرہ اقبال

جب لگے زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے

تشنگی کچھ تو بجھے تشنہ لب غم کی
اک ندی درد کے شہروں میں بہا دی جائے

دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تلے
جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے

ہم نے انسانوں کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا ہے
کیا برا ہے جو یہ افواہ اڑا دی جائے

ہم کو گزری ہوئی صدہاں تو نہ پہچانیں گی
آنے والے کسی لمحے کو صدا دی جائے

پھول بن جاتی ہیں دہکتے ہوئے شعلے کی لویں
شرط یہ ہے کہ انہیں خوب ہوا دی جائے

کم نہیں نشے میں جاڑے کی گلابی راتیں
اور اگر تیری جوانی بھی ملا دی جائے

ہم سے پوچو غزل کیا ہے غزل کا فن کیا ہے
چند لفظوں میں کوئی آہ چھپا دی جائے

1 تبصرے:

Admin نے لکھا ہے کہ

Bohat Khobsorat Blog Hai Bhai...
Koshish Krain k Tasaweer k sath posting ho... visitor barh jata hy

english me tags daalain Q k google me log english me hi search krain gy

sidebars ka size barha kr 2 side pr kr dain Q k ek side pr bohat neeche tk chaly jaaty hain posts khatam ho jaati hyn sidebar chalta rehta hy

umeed hy k in sab se aap ko madad mily gi
Allah Pak Aap ki madad krain
daawat dene ka shukriya

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll