معانیوں کو کھوجنے میں لگ گئی
تمام عمر سوچنے میں لگ گئی
کہ ہم کسی مدار میں بھی ہیں یا یونہی چل رہے ہیں بے سبب
ہماری روشنی سے کوئی جسم فیض یاب بھی ہوا کبھی
یا یونہی جل رہے ہیں
بے سبب
جہاں سے پناہ میں جو کہنہ اضطراب ہے
دبے حروف میں یہ کہ چکا ہے بارہا
معانیوں میں کچھ نہیں
یہ کل جہاں سراب ہے
جہاں اضطراب ہے
---
صہیب مغیرہ صدیقی (فیس بک سے) ۔