میں عشق الست پرست ہوں، کھولوں روحوں کے بھیدمرا نام سنہرا سانورا، اک سندرتا کا ویدمری آنکھ قلندر قادری، مرا سینہ ہے بغدادمرا ماتھا دن اجمیر کا، دل پاک پٹن آبادمیں کھرچوں ناخنِ شوق سے ،اک شبد بھری دیواروہ شبد بھری دیوار ہے، یہ رنگ سجا سنسارمیں خاص صحیفہ عشق کا، مرے پنے ہیں گلریزمیں دیپک گر استھان کا، مری لو میٹھی اور تیزمیں پریم بھری اک آتما، جو خود میں دھیان کرےمیں جیوتی جیون روپ کی، جو ہر سے گیان کرےیہ پیڑ پرندے تتلیاں، مری روح کے سائے ہیںیہ جتنے گھایل لوگ ہیں، میرے ماں جائے ہیںمیں دور حسد کی آگ سے، میں صرف بھلے کا روپمرا ظاہر باطن خیر ہے، میں گیان کی اجلی دھوپمن مکت ہوا ہر لوبھ سے، اب کیا چنتا؟ کیا دُکھ؟رہے ہر دم یار نگاہ میں، مرے نینن سکھ ہی سکھہیں ایک سو چودہ سورتیں، بس اک صورت کا نوروہ صورت سوہنے یار کی، جو احسن اور بھرپورمیں آپ اپنا اوتار ہوں، میں آپ اپنی پہچانمیں دین دھرم سے ماورا، میں ہوں حضرت انسان(علی زریون)
18 جون، 2014
دِل سا نِگار خانہ کہاں دوسرا بنے - علی زریون
شائع کردہ بذریعہ
l
دِل سا نِگار خانہ کہاں دوسرا بنے
جِس میں کہ جو بھی نقش بنے یار کا بنے
ایسی جمالِ یار کی قُدرت کہ کیا کہوں
دِل آپ مُنتظر ہے کہ مِٹ جائے یا بنے
کُچھ بھی نہیں کیا تو ہیں چرچے اِس قدر
کُچھ کَر گیا تو جانئے کیا ماجرا بنے؟
اب سنگ آ رہے ہیں تو کِس فِکر میں ہے تُو
تُو ہی تو چاہتا تھا کہ تُو آئینہ بنے
بننا ہی کچھ اگر ہے تو اِنسان بن مِیاں
یہ بھی ہے کوئی کام کہ بندہ خُدا بنے
اِک غم بنا رہے ہیں مِیاں اپنی طرز پر
ہم دِل شکستگاں سے بھلا اور کیا بنے
یہ حال ہو تو ہمدم و محرم کِسے کریں
خود سے بھی کچھ کہیں تو یہاں واقعہ بنے
یہ بے وفائی ہے تو حقیقت ہے کِس کا نام
جب تُو نہیں ہے اُس کا تو وہ کیوں تیرا بنے
منزل مِلی تو سجدہ کیا اور یہ کہا
اُس پر سلام ہو جو علی راستہ بنے
مٹی گریز کرنے لگی ہے خیال کر - علی زریون
شائع کردہ بذریعہ
l
مٹی گریز کرنے لگی ہے خیال کر
اپنا وجود اپنے لیے تو بحال کر
تیرا طلوع تیرے سوا تو کہیں نہیں
اپنے میں ڈوب اپنے ہی اندر زوال کر
اوروں کے فلسفے میں ترا کچھ نہیں چھپا
اپنے جواب کے لیے خود سے سوال کر
پہلے وہ لا تھا مجھ سے الٰہی ہوا ہے وہ
لایا ہوں میں خدا کو خودی سے نکال کر
اس کارگاہ عشق میں سمتوں کا دکھ نہ پال
فکر جنوب اور نہ خوف شمال کر
خواہش سے جیتنا ہے تو مت اس سے جنگ کر
چکھ اس کا ذائقہ اسے چھو کر نڈھال کر
آیا ہے پریم سے تو میں حاضر ہوں صاحبا
لے میں بچھا ہوا ہوں مجھے پائمال کر
خدا ایک حل تھا - علی زیون
شائع کردہ بذریعہ
l
خدا ایک حل تھا .
عقائد کی اس افراتفری سے پہلے ،
خدا ایک حل تھا ..!
وہ دل جن کا دشت و بیابانِ دنیا کی غربت میں
کوئی سہارا نہیں تھا !
وہ آنکھیں !
جنھیں ریگزارِ مصیبت کی تپتی جھلستی فضاؤں میں
نخلِ محبّت کا سایا نہیں تھا !
تو ان سب دلوں ،زخم کھائی جھلستی نگاہوں کی
سب الجھنوں کا
سبھی مشکلوں کا فقط ایک حل تھا !
خدا ایک حل تھا !
اور اس وقت یوں تھا ،
زمیں پر ! کہ جب فلسفوں اور عقیدوں کی
زہریلی کھیتی کا نام و نشاں تک نہیں تھا ،
یہ مٹی !
جو اب اپنے ادھڑے ہوئے تن کی "ھیھات حالت " پہ نوحہ کناں ہے !
یہی زرد و لاچار مٹی بہت مطمئن تھی ..!
یہی چرخِ اول !
جو آج اپنی سیار بوڑھی مگر برگزیدہ نگاہوں سے
وحشت زدہ ہو کے ،
اہلِ زمیں کی طرف دیکھتا ہے !
تو یہ چرخِ اول ،یہ نیلا فلک
اپنی چاہت کا نیلم ،
محبّت کی بارش لٹاتا تھا ،
ہنستا تھا ،
گاتا تھا ..!!
اور بس وہی وقت تھا جب خدا ایک حل تھا !
مگر اب ؟؟
زمیں پر سہولت کی ارزانیاں ہیں !
وسیلوں دلیلوں کا انبار آدم کے بیٹوں کے پیروں
کی ٹھوکر پہ ہے
اور !!
خدا سے بڑی "کائناتی شکایت" کوئی بھی نہیں ہے ..!!
وساوس کا بازارِ مرگ اپنی رونق سجائے ،
دکانیں لگائے ،
"نظر کن ! کہ ایں جنسِ وحشت چہ ارزاں و عمدہ "
کی بولی لگائے ،
ہر اک سو ہر اک جا بر ابر بپا ہے ..!
اور اس عصرئيے میں !
خدا ! جو محبّت تھا اور ایک حل تھا ،
بنی نوعِ آدم کے ہاتھوں سے گر کے کہیں کھو گیا ہے !
محبّت بہت دیر سے لا پتا ہے۔
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.