3 اگست، 2013

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا - غالب

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے ، یہی انتظار ہوتا
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی، جو جگر کے پار ہوتا
غم اگر چہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غم روزگار ہوتا

مکمل تحریر >>
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll