8 اگست، 2013

ابھی تو محبوب کا تصور ~ ابن انشاء

ابھی تو محبوب کا تصور بھی پتلیوں سے مٹا نہیں تھا
گراز بستر کی سلوٹیں ہی میں آسماتی ہے نیند رانی
ابھی ہو اول گزرنے پایا نہیں ستاروں کے کارواں کا
ابھی میں اپنے سے کہہ رہا تھا شب گزشتہ کی اک کہانی
ابھی مرے دوست کے مکاں کے ہرے دریچوں کی چلمنوں سے
سحر کی دھندلی صباحتوں کا غبار چھن چھن کے آ رہا ہے
ابھی روانہ ہوئے ہیں منڈی سے قافلے اونٹ گاڑ یوں کے
فضا میں شور ان گھنٹیوں کا عجب جادو جگا رہا ہے


مکمل تحریر >>

آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن ~ ابن انشاء

جوگی کا بنا کر بھیس پھرے
برہن ہے کوئی ، جو دیس پھرے
سینے میں لیے سینے کی دُکھن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

پھولوں نے کہا، کانٹوں نے کہا
کچھ دیر ٹھہر، دامن نہ چھڑا
پر اس کا چلن وحشی کا چلن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

اس کا تو کہیں مسکن نہ مکاں
آوارہ بہ دل ، آوارہ بہ جاں
لوگوں کے ہیں گھر، لوگوں کے وطن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

یہاں کون پوَن کی نگاہ میں ہے
وہ جو راہ میں ہے، بس راہ میں ہے
پربت کہ نگر، صحرا کہ چمن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن

رکنے کی نہیں جا، اٹھ بھی چکو
انشاء جی چلو، ہاں تم بھی چلو
اور ساتھ چلے دُکھتا ہُوا مَن
آتی ہے پوَ ن ، جاتی ہے پوَن
مکمل تحریر >>
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll