ظلمتوں میں حیات ہے صاحب
دن کے دھوکے میں رات ہے صاحب
آج بھی سورج نکلنے والا نہیں
رات کے بعد رات ہے صاحب
یہ جو تم نے ہیں نظریں چرایئں
دل میں کچھ تو بات ہے صاحب
انکل جی ‘ چھوڑیں نا سب گاہک ‘ دیکھیں نا میں آئی ہوں
تھی پچھلے برس جو قیمت پوچھی ‘ آج میں پیسے لائی ہوں
انکل جی ! اس عید پہ میں بھی چاند ستارہ پہنوں گی
گوٹی کنارہ لوں گی اور میں سوٹ بھی پیارا پہنوں گی
جو بھی کچھ ہے مجھ کو لینا ‘ لکھ کے سب کچھ لائی ہوں
یہ والا گوٹی کنارا دے دیں
چمکتا ہوا ستارہ دے دیں
سرخ رنگ کی گھڑی اٹھا دیں
وہ گڑیا جو ہے کھڑی‘ لادیں
پونی کچھ وہ بڑی اٹھا دیں
کتنے پیسے انکل جی؟؟
365 ؟365 انکل جی! ؟
پچھلےبرس تو ان سب کا
دو سو پچپن بنتا تھا
ان سب کو سوچتے میں نے
ایک ایک دن بتایا تھا
انکل جی!
یہ سب رکھ لیں!
پچھلے برس سے اب تک میں نے سکے سکے جوڑے ہیں
انکل جی میں چلتی ہوں ‘ پیسے اب بھی تھوڑے ہیں