31 جولائی، 2013

غزل۔ شدتِ ہجر سے ہے کم تلخی میں

(علی عمار یاسر)

شدتِ ہجر سے ہے کم تلخی میں 
زہر پی جیئے اور خوب جھوما جائے

بے سبب ہی ڈالئے سروں پہ خاک
گلیوں گلیوں بے سبب گھوما جائے

ہائے وہ لب! وہ شیریں لب!
بے خودی میں اپنے لبوں کو چوما جائے

مکمل تحریر >>

27 جولائی، 2013

غزل

ظلمتوں میں حیات ہے صاحب
دن کے دھوکے میں رات ہے صاحب
آج بھی سورج نکلنے والا نہیں
 رات کے بعد رات ہے صاحب
یہ جو تم نے ہیں نظریں چرایئں
دل میں کچھ  تو بات ہے صاحب

علی عمار یاسر
مکمل تحریر >>

پیسے اب بھی تھوڑے ہیں

انکل جی ‘ چھوڑیں نا سب گاہک ‘ دیکھیں نا میں آئی ہوں
تھی پچھلے برس جو قیمت پوچھی ‘ آج میں پیسے لائی ہوں

انکل جی ! اس عید پہ میں بھی چاند ستارہ پہنوں گی
گوٹی کنارہ لوں گی اور میں سوٹ بھی پیارا پہنوں گی

جو بھی کچھ ہے مجھ کو لینا ‘ لکھ کے سب کچھ لائی ہوں

یہ والا گوٹی کنارا دے دیں
 چمکتا ہوا ستارہ دے دیں
سرخ رنگ کی گھڑی اٹھا دیں
وہ گڑیا جو ہے کھڑی‘ لادیں
پونی کچھ وہ بڑی اٹھا دیں
کتنے پیسے انکل جی؟؟
365 ؟365 انکل جی! ؟
پچھلےبرس تو ان سب کا
دو سو پچپن بنتا تھا
ان سب کو سوچتے میں نے
ایک ایک دن بتایا تھا
انکل جی!
یہ سب رکھ لیں!
پچھلے برس سے اب تک میں نے سکے سکے جوڑے ہیں
انکل جی میں چلتی ہوں ‘ پیسے اب بھی تھوڑے ہیں
    
علی عمار یاسر                             
مکمل تحریر >>

26 جولائی، 2013

جنت کے پرندے

میں نے اپنی آنکهوں سے
جنت کے پرندوں کو

کوڑا چنتے دیکها ہے
مکمل تحریر >>
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll