29 جولائی، 2013

غزل ۔ مرے دشمن کی نئی گھات پہ خاک

(غلام مجتبیٰ ملک) 

مرے دشمن کی نئی گھات پہ خاک
دورِ الفت کے واقعات پہ خاک

مرے کاسے میں فقط حسرت ہے
دستِ دولت تری اوقات پہ خاک

ترے ماتھے پہ شکن آئی تھی
بندہ پرور! تری خیرات پہ خاک

التجائیں قبول تک نہ گئیں
مری حالت، مرے حالات پہ خاک

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Blogroll